کابل،26؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) افغانستان میں منگل کے روز شمالی صوبہ بلخ میں افغان فوج کے کمانڈوز کو ہدف بنا کر کئے گئے ٹرک بم حملہ سمیت طالبان کی طرف سے کئی حملے کئے گئے جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان نے ٹویٹر پر ایک بیان میں صوبہ بلخ میں ہونے والے ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے افغان فوج کے کمانڈوز کو اس حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ افغان وزارت دفاع نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کمانڈو فورس کے دو اہلکار مارے گئے ہیں اور چھ زخمی ہوگئے ہیں۔ باقی تمام زخمی عام شہری ہیں۔
صوبائی پولیس سربراہ کے ترجمان عادل شاہ عادل نے بتایا کہ صوبہ بلخ میں ایک علیحدہ حملے کے دوران ضلع چارکنت میں مسلح افراد نے چارکینٹ ضلع میں ایک گاڑی میں سابق جنگجو عبدالرؤف اور ان کے دس اور 11 سال کی عمر کے دو بیٹوں اور دیگر دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
بلخ میں حملے ایسے وقت میں کئے جا رہے ہیں جب طالبان کا ایک وفد ملّا عبدالغنی برادر کی قیادت میں افغانستان میں قیام امن کے بارے میں بات چیت کے لیے اسلام آباد میں ہے۔ وفد نے گزشتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے اور ان سے طالبان اور امریکہ کے درمیان طے شدہ سمجھوتے پر پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ طالبان اور افغانستان حکومت کے درمیان امریکہ کی ثالثی کے بعد 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دونوں فریق ایک تاریخی معاہدے پر پہنچے تھے جس میں طالبان نے شروعاتی طور پر ملک میں تشدد کم کرنے کی بات کہی تھی۔ طالبان حالانکہ حکومت کی حمایت والے سیکوریٹی فورسز پر اکثر حملے کرتا رہتا ہے اور حال ہی میں اس نے حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔